تحریر: مولانا تقی عباس رضوی کلکتوی
حوزہ نیوز ایجنسی| دنیا کی سب سے بڑی معیشت اور طویل عرصے تک عالمی طاقت رہنے والا امریکہ ہمیشہ سے عالمی سیاست، معیشت اور عسکری حکمت عملی پر گہرا اثر رکھتا آیا ہے۔ بیسویں صدی کے آغاز سے امریکہ نے نہ صرف عالمی جنگوں میں فیصلہ کن کردار ادا کیا، بلکہ سرد جنگ کے دوران اپنے اتحادیوں کو سوشلزم اور کمیونزم کے خلاف مضبوطی سے کھڑا کیا۔ 1990 کی دہائی میں سوویت یونین کے انہدام کے بعد امریکہ واحد سپر پاور کے طور پر ابھرا؛ لیکن آج ہم ایک نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں، جہاں امریکی عالمی چودھراہٹ کی حیثیت خطرے میں پڑ چکی ہے۔
گلوبلائزیشن کا اثر
گلوبلائزیشن نے دنیا کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا ہے، اور اس کا سب سے بڑا اثر امریکی چودھراہٹ پر پڑا ہے۔ پہلے دنیا بھر میں امریکی مصنوعات، ثقافت، اور سیاست کا غلبہ تھا، لیکن اب چین، بھارت اور یورپ جیسے خطے بھی عالمی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ چین، خاص طور پر، تیزی سے عالمی اقتصادی طاقت بن چکا ہے، اور اس کی بڑھتی ہوئی معیشت اور فوجی طاقت نے امریکی اثر و رسوخ کو چیلنج کیا ہے۔
چین کی ابھرتی ہوئی طاقت
چین کی تیز تر ترقی اور عالمی سطح پر پھیلتی ہوئی سرمایہ کاری امریکی چودھراہٹ کو دھکیلنے کا باعث بن رہی ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ کی قیادت میں چین نے "بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو" جیسے منصوبوں کے ذریعے عالمی سطح پر اپنے اثرات کو بڑھایا ہے۔
چین نے نہ صرف اقتصادی تعلقات میں اضافہ کیا ہے بلکہ اپنے فوجی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی خود کو ایک مضبوط کھلاڑی کے طور پر پیش کیا ہے۔ امریکہ کے مقابلے میں چین کی پالیسیوں نے دنیا کو ایک نیا منظر پیش کیا ہے، اور اس کے اثرات عالمی طاقت کے توازن پر محسوس ہو رہے ہیں۔
امریکہ کے داخلی مسائل
امریکہ کا داخلی بحران بھی اس کی عالمی چودھراہٹ کو متاثر کر رہا ہے۔ سیاسی تقسیم، بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواریاں، نسلی تنازعات اور سوشل میڈیا پر پھیلتے ہوئے جھگڑے امریکہ کو داخلی طور پر کمزور کر رہے ہیں۔
مثال کے طور پر:
19 اکتوبر 2025 کو ہفتے کے روز 2,700 شہروں اور قصبوں میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور ملک گیر "نو کنگز" احتجاجی مظاہروں میں حصہ لیا۔ یہ امریکی تاریخ کا سب سے بڑا ایک روزہ احتجاج قرار دیا گیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ مظاہرہ اسی تحریک کا دوسرا تھا؛ اس سے قبل 14 جون 2025 کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سالگرہ کے موقع پر پہلا مظاہرہ ہوا تھا، جس میں پچاسوں ریاستوں سے ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ مظاہرین صدر ٹرمپ کے مبینہ آمرانہ رویے کے خلاف سڑکوں پر اترے اور کہا کہ وہ ایک جمہوری ملک میں بادشاہ کی طرح برتاؤ کر رہے ہیں، جو غیر آئینی ہے۔
نیویارک شہر میں ایک لاکھ سے زائد مظاہرین ٹائمز اسکوائر پر جمع ہوئے، جن کے ہاتھوں میں نعرے درج تھے:
• "نفرت امریکہ کو عظیم نہیں بنائے گی"
• "امیگریشن اور بارڈر ایجنسی (ICE) کو نیو یارک سے باہر نکالو"
• "ہمارے آئین کا دفاع کرو، جمہوریت بادشاہت نہیں"
• "آئین کوئی متبادل چیز نہیں ہے"
ایک مظاہرین ٹونی چارلی نے کہا کہ امریکہ میں ہجرت ایک پرانی روایت ہے اور تارکینِ وطن ملک کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ICE "مجرموں کے بجائے ان بے گناہ محنت کشوں کو نشانہ بنا رہی ہے جو ملک کی ترقی میں اپنا تعاون دے رہے ہیں"۔ (نیویارک/سان فرانسسکو، 19 اکتوبر، یو این آئی)
امریکہ کی خارجہ پالیسی اور انسانی حقوق
امریکہ نے اسرائیل قائم کر کے عربوں اور فلسطینیوں کے انسانی، شہری، قومی و مذہبی حقوق کی پامالی کی پشت پناہی کی، جو آج بھی جاری ہے۔ غلامی کے خاتمے کا پرچم اٹھانے والا امریکہ آج اقوام و ممالک کی آزادی و خودمختاری پر سنگین خطرات ڈال رہا ہے اور انسانی حقوق کے دعویدار ہونے کے باوجود مسلم دنیا کے مذہبی حقوق اور آزادی کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔
امریکی سیاست میں متنازعہ قیادت اور غیر مستحکم انتخابی عمل نے، خاص کر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودہ ٹیرف پالیسی اور غیر روایتی اقدامات، عالمی سطح پر امریکہ کے اعتماد اور وقار میں کمی پیدا کی ہے۔ دنیا اب یہ دیکھ رہی ہے کہ آیا امریکہ اپنے داخلی مسائل پر قابو پا کر عالمی سطح پر دوبارہ چودھراہٹ حاصل کر سکے گا، یا آنکھ بند کر کے اسرائیل کی سلامتی کے لیے مشرق وسطیٰ کو تنازعات کی آگ میں جھونکنا جاری رکھے گا۔
ایران پر امریکی جارحیت: مشرقِ وسطیٰ کے لیے خطرہ
ایران مشرقِ وسطیٰ کی سب سے بڑی علاقائی طاقتوں میں سے ایک ہے۔ اس کی فوجی صلاحیت، میزائل پروگرام اور علاقائی اثر و رسوخ (خاص طور پر عراق، شام، لبنان اور یمن میں) نے اسے خطے کا ایک اہم کھلاڑی بنا دیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل ایران کی ایٹمی صلاحیت اور اس کے علاقائی اثرات کو خطرہ سمجھتے ہیں، لیکن ایران پر براہِ راست حملہ انتہائی خطرناک اور پیچیدہ فیصلہ ہے۔
علاقائی ردعمل: ایران پر حملہ مشرقِ وسطیٰ میں وسیع پیمانے پر جنگ اور دہشت گردانہ کارروائیوں کا سبب بن سکتا ہے۔
توانائی کی مارکیٹ پر اثرات: ایران خلیج فارس میں اہم تیل برآمد کرنے والا ملک ہے؛ حملہ عالمی تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ پیدا کر سکتا ہے۔
عالمی سیاسی نتائج: بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی مخالفت، اور چین و روس جیسے عالمی طاقتوں کی مخالفت امریکی اقدام کو مشکل بنا دیتی ہے۔
اسرائیل کے لیے خطرات: ایران کے اتحادی گروپ، جیسے حزب اللہ، اسرائیل کے لیے جوابی کارروائی کر سکتے ہیں، جو خطے میں جنگ کی آگ بھڑکانے کا سبب بنے گا۔
ایران پر پابندیاں اور اس کی حیرت انگیز ترقی جیساکہ ساری دنیا یہ جانتی ہے کہ ایران پر کئی دہائیوں سے عسکری، اقتصادی اور ایٹمی پابندیاں عائد ہیں۔ اس پر اسلحے کی پابندی، ایٹمی توانائی کی محدودیت، اور سخت اقتصادی اور تجارتی پابندیاں ہیں، جن کا مقصد اسے عالمی سطح پر محدود کرنا تھا۔اس کے باوجود، ایران نے اپنی سائنس، ٹیکنالوجی، دفاعی صلاحیت اور علاقائی اثر و رسوخ میں جو ترقی کی ہے، وہ دنیا کو متحیر کر دینے والی ہے۔ ایران کی میزائل ٹیکنالوجی، ایٹمی تحقیق، اور دفاعی تیاری اس بات کا ثبوت ہیں کہ پابندیوں کے باوجود ملک نے خود کو ایک مضبوط طاقت کے طور پر منوایا ہے۔اسی وجہ سے، ایران پر کسی بھی قسم کی براہِ راست امریکی یا اسرائیلی جارحیت خود کو ہلاکت میں جھونکنے کے مترادف ہوگی۔ ایسا اقدام نہ صرف ایران کی دفاعی صلاحیت کی وجہ سے خطرناک ہوگا بلکہ مشرق وسطیٰ میں وسیع پیمانے پر جنگ، انسانی نقصان، اور عالمی سیاسی بحران پیدا کرنے کا سبب بھی بنے گا۔
یہ حقیقت واضح کرتی ہے کہ ایران ایک ایسا کھلاڑی ہے جسے نظر انداز یا کمزور سمجھنا انتہائی خطرناک ہو گا، اور امریکہ و اسرائیل کے لیے کسی بھی جارحانہ اقدام کا انجام ناقابلِ پیش گوئی اور مہلک ہو سکتا ہے۔
نیا عالمی توازن
آج دنیا میں طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے۔ یورپ کی مضبوط معیشتیں اور بھارت جیسے ابھرتے ہوئے ممالک عالمی سیاسی اور اقتصادی منظرنامے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان ممالک کی بڑھتی ہوئی اقتصادی قوت اور فوجی طاقت نے امریکہ کے اثر و رسوخ کو چیلنج کیا ہے۔ عالمی ادارے جیسے اقوام متحدہ، عالمی بینک اور آئی ایم ایف میں بھی نئی طاقتوں کا اثر بڑھ رہا ہے، جو امریکی چودھراہٹ کو محدود کر رہا ہے۔
امریکہ اپنے داخلی مسائل ہی میں دست و گریباں
آج امریکہ نہ صرف عالمی چودھراہٹ کے لیے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، بلکہ اپنے ہی داخلی مسائل میں بھی شدید دست و گریباں ہے۔ سیاسی تقسیم، بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواریاں، نسلی اور سماجی تنازعات، اور سوشل میڈیا پر جاری جھڑپیں امریکہ کو اندر سے کمزور کر رہی ہیں۔
امریکہ کا مستقبل
اگرچہ امریکہ اب بھی عالمی سطح پر اہم کھلاڑی ہے، لیکن اس کی چودھراہٹ کے سورج کے غروب ہونے کے آثار واضح ہیں۔ امریکہ کو اپنی عالمی قیادت کو مستحکم کرنے کے لیے نئی پالیسیوں اور عالمی تعلقات میں توازن قائم کرنا ہوگا۔ اسے اپنی اقدار، معاشی تعلقات اور دفاعی پالیسیوں میں ایک نیا وژن اپنانا ہوگا تاکہ وہ چین ،روس ،ایران اور دیگر ابھرتی ہوئی عالمی طاقتوں کے ساتھ مقابلہ کر سکے۔
نتیجہ
امریکہ کی چودھراہٹ کے سورج کے غروب ہونے کی بات اس لیے کی جا رہی ہے کیونکہ عالمی سطح پر طاقت کا توازن بدل رہا ہے۔ چین اور دیگر ابھرتی ہوئی طاقتیں امریکہ کے لیے سنجیدہ چیلنج بن چکی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت نے امریکی سیاست میں نیا تنازع پیدا کیا، جس نے عالمی سطح پر امریکہ کی شبیہ اور چودھراہٹ کو متاثر کیا۔
ٹرمپ کی "امریکہ فرسٹ" پالیسی، یک طرفہ اقدامات، ایران ایٹمی معاہدے سے علیحدگی، نیٹو کے اتحادیوں پر دباؤ اور تجارتی جنگیں، سب نے امریکی عالمی اثر و رسوخ کو مجروح کیا۔ یہ تمام عوامل امریکی چودھراہٹ کی تنزلی کی علامات ہیں اور اس بات کا عندیہ دیتے ہیں کہ دنیا اب ایک نئی سمت کی طرف بڑھ رہی ہے۔
اگرچہ امریکہ ابھی بھی ایک عالمی طاقت ہے، لیکن اب اس کے اثرات کا دائرہ پہلے کی طرح وسیع نہیں رہا۔
اگر امریکہ کی خارجہ پالیسی یہی رہی اور ڈونلڈ ٹرمپ جیسا حکمراں حاکم امریکی اقتدار پر براجمان ہو کر دنیا کے اعصاب پر سوار نوبل انعام، تیل، جنگ، ہتھیار اور گرین لینڈ کرتا رہا تو وہ دن دور نہیں کہ امریکہ کی چودھراہٹ خاک میں مل جائے گی اور اس کی عالمی لیڈر شپ اور سیاست کا سورج غروب ہو جائے گا۔









آپ کا تبصرہ